حوزہ نیوز ایجنسی | ابن عباس سے منقول ایک روایت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادہ زیستی اور تواضع کی روشن تصویر پیش کرتی ہے؛ ایسی سیرت جس میں ظاہری تکلفات اور طبقاتی فاصلے کی کوئی جگہ نہ تھی اور غربا و کمزور طبقات کے ساتھ گھل مل کر رہنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا حصہ تھا۔ یہ روایت امام شہید (رہ) کی شرحِ احادیث سے آپ اہلِ علم کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد وآلہ الطاہرین ولعنۃ اللہ علیٰ اعدائهم اجمعین
أَخبَرَنَا ابنُ مَخلَدٍ قَالَ: أَخبَرَنَا الخَلَدِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الحَسَنُ بنُ عَلِیٍّ القَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بنُ مُوسَی الخُتَّلِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسمَاعِیلَ إِبرَاهِیمُ بنُ سُلَیمَانَ المُؤَدِّبُ عَن عَبدِ اللَّهِ بنِ مُسلِمٍ عَن سَعِیدِ بنِ جُبَیرٍ عَنِ ابنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَ آلِه) یَجلِسُ عَلَی الأرضِ وَ یَأْکُلُ عَلَی الأرضِ وَ یَعتَقِلُ الشَّاةَ وَ یُجِیبُ دَعوَةَ المَملُوکِ عَلَی خُبزِ الشَّعِیرِ.(امالی طوسی، ص ۳۹۳)
عَن ابن عبّاس قال: کَانَ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَ آلِه) یَجلِسُ عَلَی الأرض
"ابن عباس سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر بیٹھتے تھے، زمین پر کھانا تناول فرماتے تھے، بکری کو پکڑ کر رکھتے تھے اور غلام کی جو کی روٹی کی دعوت قبول فرماتے تھے۔
ابن عباس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر بیٹھتے تھے"۔
(پیغمبر) اس بات کے درپے نہیں رہتے تھے کہ کوئی ان کے لیے قالین یا کوئی اور چیز بچھائی جائے۔ مسجد میں یا راستے میں کسی ایسے شخص سے ملاقات ہو جاتی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو باتیں کرنا چاہتے تو زمین پر ہی بیٹھ جاتے تھے۔
اور زمین پر کھانا تناول فرماتے تھے۔
وَ یَأْکُلُ عَلَی الأرض
کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر بیٹھ کر ہی کھانا تناول فرماتے۔ ایسا نہیں ہوتا تھا کہ باقاعدہ دسترخوان بچھایا جائے، خاص آداب و تکلفات کا اہتمام ہو، پلیٹیں اور پیالے وغیرہ رکھے جائیں بلکہ زمین پر بیٹھ کر سادہ غذا تناول فرما لیتے تھے۔
اور بکری کو پکڑ کر رکھتے تھے۔
وَ یَعتَقِلُ الشَّاة
مثلاً آپ کے پاس کوئی بکری ہوتی تو اس کی رسی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتے تھے۔ «یعتقل» لفظ «عقال کردن» سے ہے، یعنی کسی چیز کو پکڑ کر رکھنا؛ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکری کو اسی طرح تھامے رکھتے تھے۔ بظاہر یہ ہمارے نزدیک شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ ہم میں سے کوئی شخص ہو اور اس کے پاس بکری بھی ہو تو وہ اسے گلی یا کوچے میں اپنے ہاتھ سے پکڑ کر چلنا پسند نہیں کرے گا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کام بھی انجام دیتے تھے۔
وَ یُجِیبُ دَعوَةَ المَملُوکِ عَلَی خُبزِ الشَّعِیر
کبھی کوئی غلام زمین پر بیٹھا ہوتا اور جو کی روٹی کھا رہا ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے گزرتے تو وہ عرض کرتا: حضور! تشریف لائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس بیٹھ جاتے۔ یہ نہیں فرماتے تھے کہ ہماری شان کے مطابق نہیں، یہ مناسب نہیں یا ہماری حیثیت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
ہم جو بار بار کہتے اور سنتے ہیں کہ ہمیں عوامی ہونا چاہیے، اس کا مطلب یہی ہے۔ عوامی ہونا محض دعویٰ کرنے کا نام نہیں۔ لوگوں کے ساتھ رہیں، ان کی زندگی کے حالات کے قریب رہیں، لوگوں کی طرح زندگی گزاریں اور معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ انس و الفت رکھیں۔ عوامی ہونے کا یہی حقیقی مفہوم ہے۔
ہم میں سے بعض لوگ جو اب عمامہ پہن کر دینی خدمت انجام دے رہے ہیں، اگر کوئی صاحبِ حیثیت اور معزز شخص ہو تو ہم اس سے سلام دعا کرتے ہیں، گرمجوشی سے ملتے ہیں، اگر وہ ہم سے کوئی کام کہے تو اس کی بات سنتے ہیں۔ مثلاً کہے: حضرت! میرے لیے استخارہ کر دیں، تو ہم قرآن نکال کر اس کے لیے استخارہ کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کمزور یا کم حیثیت شخص ہو تو ہم اس کی طرف توجہ اور شاید ویسا اہتمام نہیں کرتے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے خلاف ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت یہ تھی کہ آپ فقرا، کمزوروں اور ایسے ہی دیگر طبقات کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے۔ آپ ظاہری حیثیت اور ان چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے تھے جو بظاہر جلال و شوکت کا باعث سمجھی جاتی ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا انداز یہی تھا اور یہ ہمارے لیے واقعی ایک درس ہے۔
یقیناً ہم یہ توقع نہیں رکھتے اور نہ ہی یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی طرح زندگی گزاریں۔ ان کا مقام اور حالات مختلف تھے لیکن ہمیں ان کی سیرت کو اپنا معیار ضرور بنانا چاہیے۔
اس سیرت کو ایک نشانی کے طور پر سامنے رکھیں۔ فرض کریں کہ آپ پہاڑ کی ڈھلوان سے اوپر جا رہے ہیں اور آپ کی منزل پہاڑ کی چوٹی ہے۔ ممکن ہے آپ چوٹی تک نہ پہنچ سکیں، لیکن آپ کا سفر چوٹی کی سمت ہونا چاہیے اور آپ کو اسی سمت آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ ہماری زندگی بھی ایسی ہی ہونی چاہیے۔









آپ کا تبصرہ